انسان اس دنیا میں ایک عظیم فکری صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا کہ "اللهم إني أسألك قلباً خاشعاً ولساناً صادقاً" دراصل عقل کے اعلیٰ ترین اور درست ترین مصرف کی نشاندہی کرتی ہے۔ فکری صلاحیت کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر خدا کا خوف اور آخرت کا شعور بیدار کرے، یعنی اس کے اندر ایک قلبِ خاشع (God-fearing heart) پیدا کر دے۔ عام طور پر انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں کو مادی دنیا میں ترقی کے لیے تو کامیابی سے بروئے کار لاتا ہے، لیکن اسی ذہن کو اپنے اخروی انجام (ultimate fate) کی دریافت کے لیے بیدار نہیں کرتا۔ قرآن کے نزدیک حقیقی فہم اور نصیحت کا حصول صرف انہی لوگوں کا مقدر بنتا ہے جو اپنی عقل کا ہمہ جہت اور متوازن استعمال کرتے ہیں، جنہیں قرآن نے اولوا الالباب (people of understanding) سے تعبیر کیا ہے۔
تاریخی اقوام، بالخصوص قومِ نوح اور قومِ عاد کا بنیادی المیہ یہی تھا کہ وہ تمدنی اور مادی صلاحیتیں رکھنے کے باوجود فکری طور پر یک رخے پن کا شکار ہو گئیں۔ انہوں نے اپنے ذہن کو صرف دنیاوی تعمیر کے دائرے میں استعمال کیا اور جب انبیاء نے انہیں اخروی انجام کی طرف متوجہ کیا تو انہوں نے اعراض (art of avoidance) برتتے ہوئے یہ کہا کہ ہمارے لیے آپ کا نصیحت کرنا یا نہ کرنا دونوں برابر ہیں۔ اس یک رخی سوچ کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی دنیاوی ترقی بھی دیرپا ثابت نہ ہوئی اور ان کی پوری تہذیب کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ قرآنی بیانات کے اختتام پر "إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً" کی تکرار دراصل اسی حقیقت کا انتباہ ہے کہ انسان اپنے ذہن کے اخلاقی اور روحانی پہلو کو کبھی غیر فعال (deactivated) نہ رکھے، ورنہ مادی کامیابی کا انجام بالآخر مکمل بربادی کی صورت میں نکلتا ہے۔
موجودہ دور میں بھی اہلِ دعوت اور بالخصوص الرسالہ مشن کو بعینہٖ اسی روش کا سامنا ہے۔ داعی جب انسانوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی عقل کے دونوں شعبوں—دنیا اور آخرت—کو بیک وقت متحرک کریں، تو مخاطب گروہ اخروی یاد دہانی پر کان دھرنے کے بجائے صرف مادی اور دنیاوی تعمیر کی باتوں کا تقاضا کرتا ہے۔ انسانوں کی اس عمومی بے حسی اور انکار کو قرآن نے "وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ" کے الفاظ میں بیان کیا ہے، جو کہ انسانی تاریخ کی ایک مستقل معروضی حقیقت (objective reality) ہے۔ اگر کوئی داعی اس روش یا ظاہری نتائج کو دیکھ کر بددل ہو جائے اور دعوتی عمل سے ہاتھ کھینچ لے، تو یہ اس کی شدید فکری کمزوری ہوگی؛ کیونکہ پیغمبرانہ دعوتی کام نتائج پر منحصر (result-oriented) نہیں ہوتا۔
تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں ہمیشہ طلب و رسد (demand and supply) کے اصول پر چلتی ہیں، جہاں رسد کا انحصار مارکیٹ کی طلب پر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، دعوتی عمل کا ماڈل تجارتی نہیں بلکہ خالص یک طرفہ خیر خواہی (unilateral well-wishing) پر مبنی ہے۔ دعوت کی دنیا میں اگر مدعو معاشرے کی طرف سے مکمل بے رغبتی کے نتیجے میں 'عدمِ طلب کی صورتِ حال' (no-demand situation) بھی پیدا ہو جائے، تب بھی انذار و تبشیر اور قرآنی پیغام کی ترسیل کا سلسلہ بغیر کسی تعطل کے جاری رہنا چاہیے۔ مخاطبین کا ردِ عمل خواہ کتنا ہی سرد مہرانہ کیوں نہ ہو، داعی کا کام حق کے ابلاغ کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
یہ مسلسل اور بلا تعطل ابلاغ دراصل اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت کا مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ عزیز (Almighty) ہے، وہ کائنات پر مکمل غلبہ اور طاقت رکھنے کے باوجود منکرین کے انکار پر دنیا کو فوراً ختم نہیں کرتا، بلکہ اپنی صفتِ رحیم کے تحت انسانوں کو مسلسل مہلتِ عمل دیتا ہے اور خدائی إنذار (divine warning) کے سلسلے کو جاری رکھتا ہے۔ داعی کو بھی اپنے اندر اسی صفتِ رحمت کو ہر لمحہ متحرک رکھنا چاہیے۔ داعی کے لیے یہ قطعاً درست نہیں کہ وہ مخاطب کے منفی رویے سے مایوس ہو کر قرآن کی اشاعت اور ابلاغِ حق کے کام کو روک دے، بلکہ اسے تمام تر عذر تراشیوں سے بالاتر ہو کر، خالص رحمت اور بے غرض خیر خواہی کے تحت اپنی دعوتی ذمہ داری کو آخری دم تک نبھاتے رہنا ہے۔
(a) The false self-confidence of the ‘Ad community prevented them from accepting the preaching of their prophet and they went to the extent of ridiculing it. They took their prosperity in the world as God’s reward. They failed to understand the secret that man is given worldly effects by way of trial and not because he deserves them. When it was finally established that they were not going to accept the Truth, God had them lashed by stormy winds and heavy rains, which continued to wreak havoc for a week. The result was that the entire nation with its grand culture was destroyed. Now, the only sign of this nation, whose land had once been fertile and well populated is the desert which stretches far and wide between the present-day Oman and Yemen.